حسین محی الدین قادری کا Erasmus یونیورسٹی روٹرڈیم میں خطاب

منہاج القرآن انٹرنیشنل ہالینڈ کی ذیلی تنظیم منہاج یوتھ لیگ روٹرڈیم کے زیراہتمام یوتھ سیمینار 14 جنوری 2010ء کو Erasmus یونیورسٹی میں ہوا۔ منہاج القرآن کی فیڈرل کونسل کے صدر صاحبزادہ حسین محی الدین قادری سیمینار کے مہمان خصوصی تھے۔ سیکرٹری جنرل منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے بھی اس تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ سیمینار میں یونیورسٹی طلبہ کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اس میں انہوں نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کا تعارف اور عالمی قیام امن کے لیے کوششوں کو مفصل بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی قیادت میں دنیا بھر میں اسلام کے عالمی پیغام امن کو عام کر رہا ہے۔

محمد Cheppih نے "مکہ سے روٹرڈیم تک" کے موضوع پر لیکچر دیا۔ اس دوران انہوں نے اسلامی تاریخ کی مثالوں سے واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے، جو اپنی تاریخ رکھتا ہے۔ اسلام کی تاریخ، کلچر اور ہسٹری سب سے منفرد اور جداگانہ بھی ہے۔

صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہاء پسندی کو آج اسلام سے جوڑا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک اعتدال پسند دین ہے جو دنیا میں قیام امن کا درس دیتا ہے۔ آج جو لوگ اسلام کے ساتھ دہشت گردی، قتل و غارت یا امن تباہ کرنے والی دیگر سرگرمیوں کو نتھی کر رہے ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ درحقیقت ایسے لوگ شر پسند عناصر اور انتہاء پسند ہیں، جو اپنے دہشت گردی کے انتہاء پسندانہ نظریات کو اسلام پر ٹھونس رہے ہیں۔ انتہاء پسندی کی یہ قسم ہی شدت پسندی کو جنم دیتی ہے، جس سے بنیاد پرستی پروان چڑھتی ہے۔

جمہوریت کے حوالے سے آپ نے کہا کہ اسلام نے سب سے عملی جمہوریت کو متعارف کرایا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے عورت کو ووٹ کا حق دیا۔ یہ آج سے 14 سو سال پہلے کا زمانہ تھا، جبکہ ترقی پسند دنیا میں امریکہ نے اٹھارہویں، 19ویں صدی میں عورت کو ووٹ کا حق دیا۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ اسلام کی سب سے پہلی جمہوری ریاست تھی، جہاں تمام سیاسی نظریات کی بنیاد جمہوریت تھی۔ یہ اسلام کا ہی کارنامہ تھا کہ تیسرے خلیفۃ المسلمین بھی باقاعدہ منتخب کردہ تھے۔ اس سلسلے کو حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی آگے بڑھایا۔ انہوں نے یزید کی ڈکٹیٹر شپ سے سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے جمہوریت کے لیے جنگ لڑی۔ اگر وہ جمہوریت کے حامی نہ ہوتے تو اپنے رفقاء و اہل بیت کو شہید کرانے کی بجائے یزید سے سمجھوتہ کر لیتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ حسین محی الدین قادری نے کہا کہ آج دنیا بھر میں نام نہاد جمہوریت کا ڈھونڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ اکثر ممالک میں سپانسرڈ حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے میں دنیا کی ٹھیکیدداری کا دعویٰ کرنے والے دنیا کے کچھ ممالک صرف جمہوریت کے نام پر تیسری دنیا کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ ان ممالک میں حقیقی جمہوریت تقریباً نہیں ہے۔ آخر میں آپ نے تمام شرکاء کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔

تبصرہ