
جنوبی کوریا: صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے رمضان انفاق فی سبیل اللہ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک انسان کی روحانی بالیدگی، دینی ترقی اور باطنی تطہیر کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے انسان اپنی پوری زندگی کا رخ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی طرف موڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اللہ رب العزت کی خاص توفیق ہے کہ مسلمان ایسے ایام میں جمع ہو رہے ہیں جب رمضان المبارک قریب ہے۔ رمضان کو اللہ تعالیٰ نے ایک زرخیز اور بابرکت مہینہ قرار دیا ہے، جس میں قیام اللیل، صیام النہار، زکوٰۃ و خیرات اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے انسان اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان ایک قیمتی موقع ہے جس کے دوبارہ میسر آنے کی کوئی ضمانت نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اسے اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ قناعت کسی ایک عمل کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ فکر اور جینے کا سلیقہ ہے۔ رمضان المبارک کی فضا انسان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ قناعت کو اپنے دل و دماغ میں راسخ کرے۔ انسانی مشاہدہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جب انسان حرص، لالچ اور طمع کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کے دل سے چین و سکون اٹھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمان حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں قناعت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتے تھے تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل کر سکیں۔
انہوں نے قناعت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قناعت، حرص اور لالچ کی ضد ہے، جبکہ طمع ایک ایسا مرض ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ دنیا کے تمام خزانے بھی کسی کے پاس آ جائیں تو بھی دل کو حقیقی سکون نصیب نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے انہوں نے دنیا کے معروف سرمایہ دار ایلون مسک کے بیان کا حوالہ دیا جس میں اس نے کہا کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی، جو اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بے پناہ دولت کے باوجود انسان مطمئن نہیں ہوتا۔
صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل نے کہا کہ اصل خوشی وہ ہے جو ہر انسان حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ مالی طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو، بشرطیکہ وہ اپنی سوچ کو درست سمت دے۔ انہوں نے کہا کہ قناعت دراصل اللہ کی ذات پر کامل یقین کا نتیجہ ہے، جبکہ حرص اور بے صبری اللہ کے وعدوں پر کمزور یقین کی علامت ہوتی ہے۔ اگر انسان کو اس بات پر یقین ہو کہ عزت، رزق اور مقام اللہ کی طرف سے متعین ہیں تو پھر بے صبری، حسد اور غلط طریقوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ان کے مطابق حرص و لالچ بے یقینی کی پیداوار ہیں جبکہ قناعت اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے کا نام ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور امام حسن بصری رحمہ اللہ کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکیزہ زندگی دراصل قناعت کے ساتھ جینے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمان کے ساتھ اختیار کی گئی قناعت انسان کے باطن کو سکون اور اطمینان عطا کرتی ہے، جبکہ عملِ صالح اس قناعت کی عملی شکل بن جاتا ہے۔ اخلاص اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب دل قانع ہو، اور جو چیز انسان کے اختیار میں نہ ہو اس پر بے صبری یا سازش قناعت کے منافی ہے۔ قناعت فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آج کا دور بدقسمتی سے کامیابی کا پیمانہ دولت، طاقت اور ظاہری نمود کو بنا چکا ہے، جس کے باعث لوگ سوشل کمپیریزن اور غیر ضروری مقابلے کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بزرگانِ دین نے ہمیشہ سماجی رویوں کو قناعت اور شکر کے تابع رکھنے کی تعلیم دی ہے، نہ کہ حسد اور مقابلہ آرائی کے۔
تقریب میں فیصل حسین مینیجنگ ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، میاں واثق منہاج القرآن انٹرنیشنل، ساؤتھ ویلز آسٹریلیا، چیئرمین منہاج ایشین کونسل علی عمران، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل کوریا شہزاد بھٹی، جمیل چوہدری، قائدینِ تحریک منہاج القرآن کوریا، چیئرمین مرکزی مجلسِ شوریٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل کوریا حافظ وحید، شفیق خان، اسرار خان، عقیل مجاہد، جملہ ذمہ داران، منتظمین سمیت کثیر تعداد میں شریک تھے۔




تبصرہ